Skip to main content
Jo umar ka nahi wo ali ka nahi
- سیدنا عمرؓ کے ہاں سیدنا علیؓ کی رائے کی اہمیت
ماہتاب رسالت کے گرد ستاروں کا ایک دلکش اور خوب صورت ہالہ تھا۔ اس ہالہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے بہت قریبی دوست، ساتھی، خیرخواہ اور قوت بازو تھے۔ محبت ویگانگت اور یارانہ ایسا تھا کہ شاید ہی کسی اور جوڑی میں نظر آتا ہو۔ خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکرؓ کی زندگی میں جس طرح حضرت عمرؓ ساتھ ساتھ اور مشیر خاص رہے بالکل یہی منظر حضرت عمرؓ و علیؓ کے مابین تھا۔
حضرت عمرؓ کے ہاں حضرت علیؓ کی رائے کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ آپ دیگر صحابہؓ کے مشورے کے بعد فرماتے ”ماتقول یاابالحسن“ آپ کیا کہتے ہیں اے ابوالحسن۔ حضرت علیؓ جو رائے دیتے حضرت عمرؓ اسی پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ چند ایک امثلہ پیش خدمت ہیں۔
حضرت عمرؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے ایک چرواہے سے پانی مانگا تو اس نے بشرط زنا پانی دیا۔ حضرت عمرؓ نے مشورہ لیا تو صحابہؓ نے اس کے رجم کا مشورہ دیا لیکن حضرت علیؓ نے کہا کہ ”اسے چھوڑ دیا جائے کیونکہ یہ مجبور تھی“ تو حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کی رائے کو ترجیح دی۔
حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو بوجہ خلافت پیشہ تجارت چھوڑنا پڑا۔ اب سوال پیدا ہوا کہ گزر بسر کیسے ہوگا؟ تو صحابہ کرامؓ نے مشورہ دیا بیت المال سے وظیفہ مقرر کردیا جائے۔ کبار صحابہؓ نے مشورے دیے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے بیت المال سے وظیفہ لے لیں۔ آپ نے حضرت علیؓ سے پوچھا تو حضرت علیؓ نے کہا کہ ”آپ اپنے اہل وعیال کے لیے صبح وشام کا کھانا لے سکتے ہیں بس“۔ حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کی رائے کو پسند فرمایا اور ساری زندگی اسی پر عمل کیا۔
حضرت عمرؓ نے ایک عورت کو شکایت پر طلب فرمایا، وہ حاملہ تھی راستے میں اس کا حمل ساقط ہوگیا، تو حضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کہ عمرؓ کے ذمہ اس کا تاوان ہے یا نہیں؟ سبھی نے کہا کہ آپ کے ذمہ تاوان نہیں ہے لیکن حضرت علیؓ نے کہا اس کا تاوان آپ کے ذمہ ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیؓ کی رائے پسند جو کیا اور اسی پر عمل کیا۔
حضرت عمرؓ نے مشورہ کیا کہ ہم مسلمان اپنی تاریخ کا آغاز کہاں سے کریں۔ مختلف مشورے سامنے آئے۔ حضرت علیؓ نے کہا اس دن سے شروع کریں جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی۔ تو حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کی رائے کے مطابق ہی فیصلہ کیا۔
یہ پیار ومحبت تھا حضرت عمرؓ کا حضرت علیؓ سے کہ جس کے مشورے رحمن عرش پر پسند فرماتا ہے وہ فرش پر علی کے مشورے پسند فرماتا ہے۔ کتب سیر وتواریخ میں اور بھی بےشمار مثالیں ایسی موجود ہیں جن میں تصریح موجود ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کی رائے پر فیصلہ کیا۔
رضی اللہ عنہ
#Zeeshan🔥
Comments
Post a Comment