Skip to main content

Posts

Cool hotel

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچےلٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔ سرپر اس کی کس کر باندھی ہوئی پگڑی ڈھیلی ہورہی تھی۔ اس کے ہاتھ جو کرپان تھامے ہوئے تھے۔ تھوڑے تھوڑے لرزاں تھے، گمڑی اس کے قدوقامت اور خدوخال سے پتہ چلتا ت...
Recent posts

Kali shalwar

دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ یہاں آئی اور اس کا کاروبار نہ چلا تو ایک روزاس نے اپنی پڑوسن طمنچہ جان سے کہا۔ ” دِس لیف.... ویری بیڈ۔“ یعنی یہ زندگی بہت بری ہے، جبکہ کھانے ہی کو نہیں ملتا۔ انبالہ چھاؤنی میں اس کا دھندا بہت اچھا چلتا تھا۔ چھاؤنی کے گورے شراب پی کر اس کے پاس آجاتے تھے اور وہ تین چار گھنٹوں میں ہی آٹھ دس گوروں کو نپٹا کر بیس تیس روپے پیدا کرتی تھی۔ یہ گورے، اس کے ہم وطنوں کے مقابلے میں اچھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی زبان بولتے تھے جس کا مطلب سلطانہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر ان کی زبان سے یہ لاعلمی اس کے حق میں بہت اچھی ثابت ہوتی تھی۔ اگر وہ اس سے کچھ رعایت چاہتے تو وہ کہہ دیا کرتی تھی۔ ”صاحب ہماری سمجھ میں تمہاری بات نہیں آتی۔“ اور اگر وہ اس سے ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتے تو وہ اپنی زبان میں گالیاں دینی شروع کردیتی تھی۔ وہ حیرت میں اس کے منہ کی طرف دیکھتے تو وہ کہتی۔ ”صاحب ! تم ایک دم...

Blowser

کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوئے، حتٰی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایسا درد جس کو اگر وہ بیان کرنا چاہتا تو نہ کر سکتا۔ بعض اوقات بیٹھے بیٹھے وہ ایک دم چونک پڑتا۔ دھندلے دھندلے خیالات جو عام حالتوں میں بے آواز بلبلوں کی طرح پیدا ہو کر مٹ جایا کرتے ہیں مومن کے دماغ میں بڑے شور کے ساتھ پیدا ہوتے اور شور ہی کے ساتھ پھٹتے۔ اس کے دل و دماغ کے نرم و نازک پردوں پر ہر وقت جیسے خار دار پاؤں والی چیونٹیاں سی رینگتی رہتی تھیں۔ ایک عجیب قسم کا کھنچاؤ اس کے اعضا میں پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث اسے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ اس تکلیف کی شدت جب بڑھ جاتی تو اس کے جی میں آتا کہ اپنے آپ کو ایک بڑے سے ہاون میں ڈال دے اور کسی سے کہے کہ مجھے کوٹنا شروع کردیں۔ باورچی خانے میں گرم مصالحہ جات کوٹتے وقت جب لوہے سے لوہا ٹکراتا اور دھمکوں سے چھت میں ایک گونج سی دوڑ جاتی تو مومن کے ننگے پیروں کو یہ لرزش بہت بھلی معلوم ہوتی۔ پیروں کے ذریعے یہ لرزش اس کی تنی ہوئی پنڈلیوں اور رانوں میں دوڑتی ہوئی اس کے دل تک پہنچ جاتی جو تی...

ٹھنڈا ہوٹل

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچےلٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔ سرپر اس کی کس کر باندھی ہوئی پگڑی ڈھیلی ہورہی تھی۔ اس کے ہاتھ جو کرپان تھامے ہوئے تھے۔ تھوڑے تھوڑے لرزاں تھے، گمڑی اس کے قدوقامت اور خدوخال سے پتہ چلتا ت...

Jo umar ka nahi wo ali ka nahi

سیدنا عمرؓ کے ہاں سیدنا علیؓ کی رائے کی اہمیت ماہتاب رسالت کے گرد ستاروں کا ایک دلکش اور خوب صورت ہالہ تھا۔ اس ہالہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے بہت قریبی دوست، ساتھی، خیرخواہ اور قوت بازو تھے۔ محبت ویگانگت اور یارانہ ایسا تھا کہ شاید ہی کسی اور جوڑی میں نظر آتا ہو۔ خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکرؓ کی زندگی میں جس طرح حضرت عمرؓ ساتھ ساتھ اور مشیر خاص رہے بالکل یہی منظر حضرت عمرؓ و علیؓ کے مابین تھا۔ حضرت عمرؓ کے ہاں حضرت علیؓ کی رائے کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ آپ دیگر صحابہؓ کے مشورے کے بعد فرماتے ”ماتقول یاابالحسن“ آپ کیا کہتے ہیں اے ابوالحسن۔ حضرت علیؓ جو رائے دیتے حضرت عمرؓ اسی پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ چند ایک امثلہ پیش خدمت ہیں۔ حضرت عمرؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے ایک چرواہے سے پانی مانگا تو اس نے بشرط زنا پانی دیا۔ حضرت عمرؓ نے مشورہ لیا تو صحابہؓ نے اس کے رجم کا مشورہ دیا لیکن حضرت علیؓ نے کہا کہ ”اسے چھوڑ دیا جائے کیونکہ یہ مجبور تھی“ تو حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کی رائے کو ترجیح دی۔ حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو بوجہ خلافت پیشہ تجارت چھوڑنا پڑ...

Jumgle

جنگل میں شیر نے حکم جاری کر دیا کہ آج سے ہر سینئر جانور جونیئر جانور کو چیک کر سکتا ہے بلکہ سزا بھی دے سکتا 😈 باقی جانورں نے تو اسے نارمل لیا پر باندر نے خرگوش پکڑ لیا اور رکھ کے چپیڑ ماری 😒 اور پوچھا کہ ٹوپی کیوں نہیں پہنی خرگوش بولا سر میرے کان لمبے ہیں اس لیے نہیں پہن سکتا۔۔۔۔😢 باندر نے کہا اوکے جاو😕 اگلے دن فیر خرگوش چہل قدمی کر رہا تھا باندر نے اسے بلایا اور رکھ کے ایک کان کے نیچے دی اور پوچھا ٹوپی کیوں نہیں پہنی, 😕 خرگوش نے روتے ہوے کہا سر کل بھی بتایا تھا کہ کان لمبے ہیں نہیں پہن سکتا..😢😓 باندر نے کہا اوکے گیٹ لاسٹ👿 تیسرے دن فیر باندر نے یہی حرکت کی تو خرگوش شیر کے پاس گیا اور ساری کہانی سنائی۔۔😭 شیر نے باندر کو بلایا اور کہا ایسے تھوڑی چیک کرتے 😡 اور وی سو طریقے ہیں جیسا کہ تم خرگوش کو بلاؤ اور کہو جاو سموسے لاؤ اگر وہ صرف سموسے لائے تو پھڑکا دو چپیڑ اور کہو چٹنی کیوں نہیں لائے۔۔😁 فرض کرو اگر وہ دہی والی چٹنی لے آئے تو لگاو چپیڑ اور کہو آلو بخارے والی کیوں نہیں لاے😒 اور اگر وہ آلو بخارے والی لے آے تو ٹکا دینا کہ دہی والی کیوں نہیں لاے۔۔۔😒 خرگوش نے یہ ساری...

Laltain se mobile tak

ہمارے ایک دوست فرماتے ہیں کہ ان کی پہلی محبت دس منٹ کی تھی کیوں کہ لڑکی اگلے اسٹاپ پر بس سے نیچے اتر گئی تھی😊۔۔۔۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے بیس برس پہلے تک گاؤں دیہات میں محبت کرنے کے انداز بالکل مختلف تھے۔ ہم چھوٹے تھے تو بغیر بنیروں والی کچی چھتوں پر چڑھ کر پتنگیں لوٹنے کے انتظار میں ننگے پاؤں کھڑے رہتے لیکن محلے میں کچھ حسن کے پروردہ اور جوانی میں قدم رکھنے والے ’سچے عاشق‘ اپنی عقابی نظروں کے ریڈار میں آنے والی لڑکیوں کو پلاسٹک کے فریم والے شیشے سے لشکارے مارتے رہتے۔ لڑکیاں بھی ایسی سمجھدار ہوتیں کہ ہاتھ والے نلکے کے ساتھ بیٹھ کر سارا سارا دن صرف دو سوٹ ہی دھوتی رہتیں۔ یہ دو سوٹ بار بار چھت کے بنیرے پر ڈالتی، سوکھ جاتے تو دوبارہ دھوتیں اور دوبارہ چھت پر آ جاتیں۔ کچی چھتوں پر ہونے والی یہ خاموش محبت پکی ڈور کی طرح سال ہا سال چلتی۔ جون، جولائی کی گرمی میں کپڑے تین منٹ میں سوکھ جاتے ہیں لیکن چھنو کے کپڑے سارا دن نہ سوکھتے اور کچھ ’پڑھے لکھے عاشق‘ ہائی سکول سے واپسی پر ہاتھ میں انگلش گرائمر کی کتاب لیے سخت گرمی میں دوپہر کے وقت چھت پر ٹہلتے رہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ فیل انگلش...